53

سائنسدانوں کو 4200 سال پرانی قبر مل گئی، اس کے اندر کیا ہے؟

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)اب تک فراعین مصر کی کئی ممیاں(حنوط شدہ لاشیں)دریافت کی جا چکی ہیں اور اب ماہرین آثار قدیمہ نے ایسے ہی ایک اور مقبرے کا سراغ لگا لیا ہے جسے دیکھ کر خود ان کی خوشی کا بھی ٹھکانہ نہ رہا، کیونکہ یہ مقبرہ 4200سال قدیم ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ نئی دریافت مصر کے شہر اسوان کے قریب قبیط الحواءکے علاقے میں ہوئی ہے۔ اس قدیم قبرستان میں ایک لڑکا گھوم رہا تھا کہ اس نے ایک پراسرار قدیم دیوار دیکھی۔ اطلاع پر جب برمنگھم یونیورسٹی اور مصر کے ماہرین آثار قدیمہ کی ٹیم وہاں پہنچی اوردیوار کو توڑ کر اندر دیکھا تو حیران رہ گئے کہ اس کے اندر ایک مقبرہ موجود تھا اور اس کے اندر ممیاں موجود تھیں۔ ماہرین کے مطابق ممکنہ طور پر یہ ممیاں بھی فراعین مصر ہی کی ہیں۔
ٹیم کے رکن کارل گریوز کا کہنا تھا کہ ”اس دریافت نے اس قدیم زمانے میں لوگوں کی تدفین کے متعلق ہمارے سوچ کو ڈرامائی انداز میں تبدیل کر دیا ہے۔اس مقبرے کا تعلق 2184سے 2278قبل مسیح سے ہے۔ تاحال ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ مقبرہ کس کا ہے لیکن غالب امکان ہے کہ اس میں بھی فراعین ہی دفن ہیں۔“اسوان کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل نصر سلمہ کا کہنا تھا کہ ”یہ حیران کن دریافت ہے۔ اب بہت جلد یہاں موجود مزید کئی مقبرے بھی دریافت کر لیے جائیں گے۔“ مصری محکمہ آثار قدیمہ کے قدیم ظروف سازی کے تحقیقاتی منصوبے کی ڈائریکٹر ایمان خلیفہ کا کہنا تھا کہ ”دریافت ہونے والے مقبروں کے اندر مٹی میں دبے قدیم برتنوں کے ٹکڑوں سے ان مقبروں کی قدامت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس طرح کے برتن چھٹی سلطنت کے بادشاہ پیپی دوئم (Pepi II)کے زمانے میں بنائے جاتے تھے جس کا عہد اقتدار 2184سے 2278قبل مسیح کے درمیان تھا۔“ رپورٹ کے مطابق ماہرین آثار قدیمہ کی ٹیم ان مقبروں کی مزید کھدائی آئندہ برس اپریل میں کرے گی۔

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں