43

پڑھیں صبح صبح خوشی کی خبر

اسلام آباد (این این آئی)ملک بھر میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت شروع کئے جانے والے توانائی کے منصوبوں سے 17045 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔ ذرائع کے مطابق یہ توانائی کے منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت شروع کئے گئے ہیں جس سے نہ صرف توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ اضافی بجلی بھی پیدا ہوگی۔ ذرائع نے کہا کہ ان منصوبوں سے پیدا ہونے والی 1100میگاواٹ بجلی 2016ء کے اختتام تک نیشنل گرڈ میں شامل ہوجائے گی جبکہ 1650میگاواٹ بجلی 2017ء تک اور 3270 میگاواٹ بجلی کے منصوبے 2018ء تک فعال ہوجائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ 2250 میگاواٹ بجلی کے اضافی منصوبے 2018ئکے بعد مکمل ہوں گے، حکومت نے ان منصوبوں پر کام کا آغاز پہلے سے کر رکھا ہے اور بیشتر منصوبے 2018ء تک مکمل ہوجائیں گے۔
ذرائع نے کہا کہ اس وقت کوئلہ سے توانائی کے 1320 میگاواٹ بجلی کے منصوبے پر ساہیوال میں اور 1320 میاگواٹ کے پورٹ قاسم میں منصوبوں پر کام جاری ہے جو 2017ء تک مکمل ہوجائیں گے جبکہ باقی ماندہ 660 میگاواٹ 2018ء تک مکمل ہوگا اسی طرح 600 میگاواٹ اینگرو تھرکول منصوبہ پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جو 2017ء تک 300 میگاواٹ پیداوار دینا شروع کردے گا اور 300 میگاواٹ بجلی 2018 میں قومی گرڈ میں شامل کردے گا۔ 1320 میگاواٹ قادر آباد کوئلہ کے منصوبے پر کام جاری ہے جو 660 میگاواٹ کی پیداوار 2017ء میں اور 660 میگاواٹ کی پیداوار 2018ء میں دینا شروع کردے گا۔ 300 میگاواٹ کے سالٹ رینج مائن مائوتھ توانائی کے منصوبے 2018کے اخر تک قومی گرڈ میں پیداوار دینا شروع کردے گا جبکہ حبکو 660 میگاواٹ نیشنل گرڈ میں 2018ء تک شامل ہوجائے گی۔
تھر بلاک 1- پر کام کا آغاز ہوچکا ہے جو 2018ء تک 660 میگاواٹ بجلی کی پیداوار دینا شروع کردے گا جبکہ 660 میگاواٹ کی اضافی پیداوار 2018ء کے بعد ملنا شروع ہوجائے گی۔قائداعظم سولر پارک بہاولپور سے ایک ہزار میگاواٹ اور 250 میگاواٹ ونڈ پاور پلانٹ سندھ میں جاری ہیں جو رواں برس پیداوار دینا شروع کردیں گے۔ اسی طرح 720 میگاواٹ کروٹی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 870 میگاواٹ سکھی کنارو پاور خیبرپختونخوا کے منصوبے زیرغور ہیں جن پر 2018 کے بعد کام شروع ہوجائے گا۔

comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں